ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دے
ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دے
زندگی کو نہ مری نذر تماشا کر دے
جام الفت سے مرے لب کو شناسا کر دے
وقف اوروں کے لئے وسعت دریا کر دے
آستانوں کو تو بے شک نہ کمی ہے لیکن
سجدہ ریزی کا جنوں تجھ کو نہ رسوا کر دے
دیکھ لیں اپنی بھی آنکھوں سے وہ انجام ستم
کور چشموں کو عطا دیدۂ بینا کر دے
رکھئے احسان نہ اس چارہ گری کا ہم پر
دل کے زخموں کو جو کچھ اور بھی گہرا کر دے
بھیک میں مانگے اجالوں پہ گزارا کب تک
اس سے بہتر تو یہی ہے کہ اندھیرا کر دے
زہر کا جام سہی بادۂ رنگیں نہ سہی
تو اگر چاہے تو اس کو بھی گوارا کر دے
زرد چہروں پہ بھی کھل جائے گلستان شباب
تیری دزدیدہ نگاہی جو اشارہ کر دے
بار ہے تجھ پہ جو زنجیر تعلق اے دوست
بیڑیاں کاٹ کے اس قید کو ہلکا کر دے
گرمیٔ فن سے ہنر مندیٔ دست فنکار
سخت پتھر کو اگر چاہے تو شیشہ کر دے
مٹ ہی جائے گی شب غم کی سیاہی بہزادؔ
دل کو روشن جو چراغ رخ زیبا کر دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.