ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے کچھ ان کا اشارا ہوتا ہے
کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں دیکھا نہیں پلکوں پر اکثر
یا شام غریباں کا جگنو یا صبح کا تارا ہوتا ہے
ہم دل کو لیے ہر دیس پھرے اس جنس کے گاہک مل نہ سکے
اے بنجارو ہم لوگ چلے ہم کو تو خسارا ہوتا ہے
دفتر سے اٹھے کیفے میں گئے کچھ شعر کہے کچھ کافی پی
پوچھو جو معاش کا انشاؔ جی یوں اپنا گزارا ہوتا ہے
- کتاب : Chand Nagar (Pg. 97)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.