ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے

وسیم بریلوی

ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے

وسیم بریلوی

MORE BY وسیم بریلوی

    ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے

    یہ وہ نہیں جو کسی رہ گزر کا ہو جائے

    اسی کو جینے کا حق ہے جو اس زمانے میں

    ادھر کا لگتا رہے اور ادھر کا ہو جائے

    کھلی ہواؤں میں اڑنا تو اس کی فطرت ہے

    پرندہ کیوں کسی شاخ شجر کا ہو جائے

    میں لاکھ چاہوں مگر ہو تو یہ نہیں سکتا

    کہ تیرا چہرا مری ہی نظر کا ہو جائے

    مرا نہ ہونے سے کیا فرق اس کو پڑنا ہے

    پتہ چلے جو کسی کم نظر کا ہو جائے

    وسیمؔ صبح کی تنہائی سفر سوچو

    مشاعرہ تو چلو رات بھر کا ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY