ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جانا

تلوک چند محروم

ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جانا

تلوک چند محروم

MORE BYتلوک چند محروم

    ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جانا

    کہ ہم نے زندگی کو جادۂ راہ سفر جانا

    یکایک منزل آفات عالم سے گزر جانا

    ڈریں کیوں موت سے جب ہے اسی کا نام مر جانا

    تری نظروں سے گر جانا ترے دل سے اتر جانا

    یہ وہ افتاد ہے جس سے بہت اچھا ہے مر جانا

    جواب ابر نیساں تجھ کو ہم نے چشم تر جانا

    کہ ہر اک قطرۂ اشک چکیدہ کو گہر جانا

    تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

    جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

    ہم اپنے رہزن و رہبر تھے لیکن سادہ لوحی سے

    کسی کو راہزن سمجھے کسی کو راہبر جانا

    میں ایسے راہ رو کی جستجو میں مر مٹا جس نے

    تن خاکی کو راہ عشق میں گرد سفر جانا

    لب بام آئے تم اور ان کے چہرے ہو گئے پھیکے

    قمر نے تم کو خورشید اور ستاروں نے قمر جانا

    نہ بھولے گا ہمیں محرومؔ صبح روز محشر تک

    کسی کا موت کے آغوش میں وقت سحر جانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY