ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

امیر مینائی

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

امیر مینائی

MORE BY امیر مینائی

    ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

    کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

    بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری

    میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

    میں نے آغوش تصور میں بھی کھینچا تو کہا

    پس گئی پس گئی بے درد نزاکت میری

    آئینہ صبح شب وصل جو دیکھا تو کہا

    دیکھ ظالم یہ تھی شام کو صورت میری

    یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے

    آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

    حسن اور عشق ہم آغوش نظر آ جاتے

    تیری تصویر میں کھنچ جاتی جو حیرت میری

    کس ڈھٹائی سے وہ دل چھین کے کہتے ہیں امیرؔ

    وہ مرا گھر ہے رہے جس میں محبت میری

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY