ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

حکیم منظور

ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

حکیم منظور

MORE BYحکیم منظور

    ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

    وہ زندگی کو یہ کیسا عذاب دے کے گیا

    نہ دے سکا مجھے وسعت سمندروں کی مگر

    سمندروں کا مجھے اضطراب دے کے گیا

    وہ کس لیے مرا دشمن تھا جانے کون تھا وہ

    جو آنکھ آنکھ مسلسل سراب دے کے گیا

    خلا کے نام عطا کر کے چھاؤں کی میراث

    مجھے وہ جلتا ہوا آفتاب دے کے گیا

    وہ پیڑ اونچی چٹانوں پہ اب بھی تنہا ہیں

    انہی کو ساری متاع سحاب دے کے گیا

    ہر ایک لفظ میں رکھ کر سراب معنی کا

    ہر ایک ہاتھ میں وہ اک کتاب دے کے گیا

    میں کل ہوں اور تو جز میں بھی کل ہے اے منظورؔ

    بچھڑتے وقت مجھے یہ خطاب دے کے گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Natamam (Pg. 25)
    • Author : Hakeem Manzoor
    • مطبع : Samt Publication 2/48 Rajendar Nagar New Delhi-110060 (1977)
    • اشاعت : 1977

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY