ہر موسم میں خالی پن کی مجبوری ہو جاؤ گے
ہر موسم میں خالی پن کی مجبوری ہو جاؤ گے
اتنا اس کو یاد کیا تو پتھر بھی ہو جاؤ گے
ہنستے بھی ہو روتے بھی ہو آج تلک تو ایسا ہے
جب یہ موسم ساتھ نہ دیں گے تصویری ہو جاؤ گے
ہر آنے جانے والے سے گھر کا رستہ پوچھتے ہو
خود کو دھوکا دیتے دیتے بے گھر بھی ہو جاؤ گے
جینا مرنا کیا ہوتا ہے ہم تو اس دن پوچھیں گے
جس دن مٹی کے ہاتھوں کی تم مہندی ہو جاؤ گے
چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی اتنا سجا کر لکھتے ہو
ایسے ہی تحریر رہی تو بازاری ہو جاؤ گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.