ہر قدم سیل حوادث سے بچایا ہے مجھے

زبیر رضوی

ہر قدم سیل حوادث سے بچایا ہے مجھے

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    ہر قدم سیل حوادث سے بچایا ہے مجھے

    کبھی دل میں کبھی آنکھوں میں چھپایا ہے مجھے

    اور سب لوگ تو مے خانہ سے گھر لوٹ گئے

    مہرباں رات نے سینے سے لگایا ہے مجھے

    ہر حسیں انجمن شب مجھے دہراتی ہے

    جانے کس مطرب آشفتہ نے گایا ہے مجھے

    سنگ سازوں نے تراشا ہے مرے پیکر کو

    تم نے کیا سوچ کے پتھر پہ گرایا ہے مجھے

    آنے والوں میں کوئی اپنا شناسا ہوتا

    صورت فرش دل و دیدہ بچھایا ہے مجھے

    کچی دیواروں کو پانی کی لہر کاٹ گئی

    پہلی بارش ہی نے برسات کی ڈھایا ہے مجھے

    میں جیا عشق کی اک زندہ علامت بن کر

    داستاں گویوں نے راتوں کو سنایا ہے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY