ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

امیر مینائی

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

    تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

    تڑپ کے روح یہ کہتی ہے ہجر جاناں میں

    کہ تیرے ساتھ دل بے قرار ہم بھی ہیں

    رہے دماغ اگر آسماں پہ دور نہیں

    کہ تیرے کوچہ میں مست غبار ہم بھی ہیں

    کہو کہ نخل چمن ہم سے سرکشی نہ کریں

    انہیں کی طرح سے باغ و بہار ہم بھی ہیں

    ہمارے آگے ذرا ہو سمجھ کے زمزمہ سنج

    کہ ایک نغمہ سرا اے ہزار ہم بھی ہیں

    کہاں تک آئنے میں دیکھ بھال ادھر دیکھو

    کہ اک نگاہ کے امیدوار ہم بھی ہیں

    شراب منہ سے لگاتے نہیں ہیں اے زاہد

    فراق یار میں پرہیزگار ہم بھی ہیں

    ہمارا نام بھی لکھ لو جو ہے قلم جاری

    قدیم آپ کے خدمت گزار ہم بھی ہیں

    ہما ہیں گرد مری ہڈیوں کے آٹھ پہر

    سگ آ کے کہتے ہیں امیدوار ہم بھی ہیں

    جو لڑکھڑا کے گرے تو قدم پہ ساقی کے

    امیرؔ مست نہیں ہوشیار ہم بھی ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY