ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں

عزیز حامد مدنی

ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں

عزیز حامد مدنی

MORE BYعزیز حامد مدنی

    ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں

    ہم ایک حلقۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں

    کبھی کبھی نگۂ آشنا کے افسانے

    اسی حدیث سر رہ گزر میں ہوتے ہیں

    وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط

    جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں

    کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب

    بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ہیں

    گزر رہا ہے تو آنکھیں چرا کے یوں نہ گزر

    غلط بیاں بھی بہت رہ گزر میں ہوتے ہیں

    قفس وہی ہے جہاں رنج نو بہ نو اے دوست

    نگاہ داری احساس پر میں ہوتے ہیں

    سرشت گل ہی میں پنہاں ہیں سارے نقش و نگار

    ہنر یہی تو کف کوزہ گر میں ہوتے ہیں

    طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش

    ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY