ہزاروں لوگ ہیں اپنی طرح کے
ستم جو جھیلتے ہیں مسکرا کے
کہاں تاریکیوں میں کھو گئے ہو
ہمارے ہاتھ پر شمع جلا کے
ذرا بیٹھو ہمارا حال دیکھو
کدھر جاتے ہو تم یہ گل کھلا کے
ترے بارے میں یہ سوچا نہیں تھا
کہ تو بھی چھوڑ دے گا آزما کے
چمن میں تم خلیلؔ آئے نہیں ہو
مجھے سننے پڑے شکوے صبا کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.