حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیں

امید فاضلی

حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیں

امید فاضلی

MORE BY امید فاضلی

    حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیں

    شریک عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیں

    یہ خود فریبئ احساس آرزو تو نہیں

    تری تلاش کہیں اپنی جستجو تو نہیں

    سکوت وہ بھی مسلسل سکوت کیا معنی

    کہیں یہی ترا انداز گفتگو تو نہیں

    انہیں بھی کر دیا بیتاب آرزو کس نے

    مری نگاہ محبت کہیں یہ تو تو نہیں

    کہاں یہ عشق کا عالم کہاں وہ حسن تمام

    یہ سوچتا ہوں کہ میں اپنے رو بہ رو تو نہیں

    نگاہ شوق سے غافل سمجھ نہ جلووں کو

    شراب کچھ بھی ہو بیگانۂ سبو تو نہیں

    خوشی سے ترک محبت کا عہد لے اے دوست

    مگر یہ دیکھ ترا دل لہو لہو تو نہیں

    نہ گرد راہ ہے رخ پر نہ آنکھ میں آنسو

    یہ جستجو بھی سہی اس کی جستجو تو نہیں

    چمن میں رکھتے ہیں کانٹے بھی اک مقام اے دوست

    فقط گلوں سے ہی گلشن کی آبرو تو نہیں

    مآخذ:

    • Book : Range-e-Gazal (Pg. 143)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY