حرص کے باب میں یوں خود کو تمہارا کر کے
عشق کے باب میں یوں خود کو تمہارا کر کے
ہاتھ ملتا ہوں میں اپنا ہی خسارہ کر کے
اب مرے ذہن میں بس لذت دنیا ہے رواں
تھک چکا ہوں تری الفت پہ گزارہ کر کے
ہم ابھی صحبت دنیا میں ہیں مصروف مگر
کوئی شب تم کو بھی دیکھیں گے گوارہ کر کے
ہم سے خاموش طبیعت بھی ہیں دنیا میں کہ جو
اس کو ہی چاہتے ہیں اس سے کنارہ کر کے
دیر تک کوئی نہ تھا راہ بتانے والا
اور پھر لے گئی اک موج اشارہ کر کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.