ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور

آنس معین

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور

آنس معین

MORE BY آنس معین

    ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور

    بڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اور

    کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار

    اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور

    پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو گے

    یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور

    تردید تو کر سکتا تھا پھیلے گی مگر بات

    اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور

    کیوں ترک تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟

    اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور

    ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں

    یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور

    لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم

    جیتو گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور

    بڑھ جائیں گے کچھ اور لہو بیچنے والے

    ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور

    اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں

    کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور نعمان شوق

    مآخذ:

    • Book : Muallim-e-urdu(Lucknow) (Pg. 33)
    • Author : Izhar Ahmad
    • مطبع : Published by Izhar ahmad Editor,and publisher at the Shagufta printers Lucknow & Distributed simmam Publication 499/129 Hasanganj lucknow-226020 ( February-1992)
    • اشاعت :  February-1992

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY