ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپنا

نظیر اکبرآبادی

ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپنا

نظیر اکبرآبادی

MORE BY نظیر اکبرآبادی

    ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپنا

    کہ یہ نکلا سحر کو اور نہ نکلا آفتاب اپنا

    ترے منہ کے جو ہر دم روبرو آنے کو کہتا ہے

    ذرا آئینہ لے کر منہ تو دیکھے آفتاب اپنا

    نہ اتنا ظلم کر اے چاندنی بہر خدا چھپ جا

    تجھے دیکھے سے یاد آتا ہے مجھ کو ماہتاب اپنا

    خفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہے

    کھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا

    سحر آسا عیاں ہوتے ہی لی راہ عدم ہم نے

    ہوا آنا بھی اور جانا بھی ایسا کچھ شتاب اپنا

    نظیرؔ اس بحر میں فرصت کم اور عیش و طرب لاکھوں

    تو پھر اب حق بہ جانب ہے کرے کیا کیا حساب اپنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY