حسن میں ناز و ادا عشق میں وحشت کیسی
حسن میں ناز و ادا عشق میں وحشت کیسی
اس زمانے میں وفا کیسی محبت کیسی
تلخ باتوں پہ خموشی بھی بڑا عزم ہے پر
گالیاں سن کے دعا دے وہ شرافت کیسی
لوگ غالیچوں پہ سجدے سے بھی کتراتے ہیں
تیغ کے سائے میں کرتے تھے عبادت کیسی
عہد خوشحالی کا مطلب ہی لیا عیاشی
اب اگر ٹوٹ گئے ہو تو شکایت کیسی
کوئی بولا ہے کہ شاداں ہے کسی کا ہو کر
ہو مجھے رنج وہ خوش ہے تو محبت کیسی
عمر بھر طفل طبیعت کو شرارت سوجھی
وقت آخر یہ جگی خواہش جنت کیسی
مسکن امن و اماں تھا یہ وطن نذرؔ مرا
آج برپا ہے ہر اک سمت قیامت کیسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.