ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں

جواد شیخ

ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں

جواد شیخ

MORE BY جواد شیخ

    ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں

    ادھر وہ حسن کہ آنکھوں پہ اعتبار نہیں

    میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں

    مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں

    تم اپنی حالت غربت کا غم مناتے ہو

    خدا کا شکر کرو مجھ سے بے دیار نہیں

    میں سوچتا ہوں کہ وہ بھی دکھی نہ ہو جائے

    یہ داستان کوئی ایسی خوش گوار نہیں

    تو کیا یقین دلانے سے مان جاؤ گے؟

    یقیں دلاؤں کہ یہ ہجر دل پہ بار نہیں

    قدم قدم پہ نئی ٹھوکریں ہیں راہوں میں

    دیار عشق میں کوئی بھی کامگار نہیں

    یہی سکون مری بے کلی نہ بن جائے

    کہ زندگی میں کوئی وجہ انتظار نہیں

    خدا کے بارے میں اک دن ضرور سوچیں گے

    ابھی تو خود سے تعلق بھی استوار نہیں

    گلہ تو مجھ سے وہ کرتا ہے اس طرح جوادؔ

    کہ جیسے میں تو جدائی میں سوگوار نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY