اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

آنس معین

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

آنس معین

MORE BY آنس معین

    اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

    مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں

    پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے

    اس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں

    ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے

    سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو کسے دیں

    سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ

    اور پاس ہے بس ایک ردا دیں تو کسے دیں

    جب ہاتھ ہی کٹ جائیں تو تھامے گا بھلا کون

    یہ سوچ رہے ہیں کہ عصا دیں تو کسے دیں

    بازار میں خوشبو کے خریدار کہاں ہیں

    یہ پھول ہیں بے رنگ بتا دیں تو کسے دیں

    چپ رہنے کی ہر شخص قسم کھائے ہوئے ہے

    ہم زہر بھرا جام بھلا دیں تو کسے دیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں نعمان شوق

    مآخذ:

    • Book : Muallim-e-urdu(Lucknow) (Pg. 34)
    • Author : Izhar Ahmad
    • مطبع : Published by Izhar ahmad Editor,and publisher at the Shagufta printers Lucknow & Distributed simmam Publication 499/129 Hasanganj lucknow-226020 (February-1992)
    • اشاعت : February-1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY