اک قدم اٹھ گیا روانی میں
درد پھر آ گیا کہانی میں
کوئی تو چاند کو سکھاتا ہے
ڈوبنا روز روز پانی میں
صرف تو نے نگاہ پھیری ہے
موڑ سا آ گیا کہانی میں
اس کی آنکھوں میں ڈوب کر دیکھا
تشنگی بڑھ گئی ہے پانی میں
کچھ دیئے رات بھر رہے روشن
ایک جگنو کی میزبانی میں
میں اکیلا کھڑا تھا سچ کے ساتھ
مجھ کو مرنا ہی تھا کہانی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.