اک سحر تحیر تھا کہ احساس کی رو تھی
اک سحر تحیر تھا کہ احساس کی رو تھی
دن کو بھی نگاہوں میں شبیہ مہ نو تھی
ہم لوگ تو وابستۂ یک تار نظر تھے
معلوم نہیں اس کے سوا بھی کوئی لو تھی
تب ذہن پہ ظلمات کا پرتو نہ پڑا تھا
جھلمل تھے کمالات خیالات میں ضو تھی
پھر خواب خرد خوار سے بیدار ہوئے تو
ہر ذہن پہ زنگار تھا ہر چشم گرو تھی
خس خانۂ افکار میں کچھ بھی تو نہیں تھا
چند ایک شرارے تھے اور ان کی تگ و دو تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.