اک تماشا کہ ہوتا رہا سامنے
دور مجھ سے میں کھیلا کیا سامنے
آسماں سر میں پھیلاؤ لیتا ہوا
اک سمٹتی ہوئی سی دعا سامنے
سامنے ٹوٹی پھوٹی صدا کا کھنڈر
دور گہرائی میں اک خلا سامنے
میں کہ اپنا ہی قد پار کر نہ سکا
آ گیا کوئی مجھ سے بڑا سامنے
زندگی ایک موج فنا کا سرور
سر بہ سر ایک موج ہوا سامنے
یہ وہی شخص ہے کیا وہی شخص ہے
وہ جو آیا تھا ہنستا ہوا سامنے
دیکھو اجملؔ نے اک اور کہہ دی غزل
وہ جو دل میں تھا سب رکھ دیا سامنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.