اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں

انور شعور

اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں

انور شعور

MORE BYانور شعور

    اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں

    کوچے کوچے میں پھرا کرتا ہوں میں

    مجھ سے سرزد ہوتے رہتے ہیں گناہ

    آدمی ہوں کیوں کہوں اچھا ہوں میں

    صاف و شفاف آسماں کو دیکھ کر

    گندی گندی گالیاں بکتا ہوں میں

    قہوہ خانوں میں بسر کرتا ہوں دن

    قحبہ خانوں میں سحر کرتا ہوں میں

    دن گزرتا ہے مرا احباب میں

    رات کو فٹ پاتھ پر سوتا ہوں میں

    بیٹ کر جاتی ہے چڑیا ٹانٹ پر

    عظمت آدم کا آئینہ ہوں میں

    کانچ سی گڑیوں کے نرم اعصاب پر

    صورت سنگ ہوس پڑتا ہوں میں

    نازکوں کے ناز اٹھانے کے بجائے

    نازکوں سے ناز اٹھواتا ہوں میں

    دوسروں کو کیا پتا اپنا بتاؤں

    اب تو خود اپنے لیے عنقا ہوں میں

    مجھ سے پوچھے حرمت کعبہ کوئی

    مسجدوں میں چوریاں کرتا ہوں میں

    مجھ سے لکھوائے کوئی ہجو شراب

    مے کدوں میں قرض کی پیتا ہوں میں

    میں چھپاتا ہوں برہنہ خواہشیں

    وہ سمجھتی ہے کہ شرمیلا ہوں میں

    کس قدر بد نامیاں ہیں میرے ساتھ

    کیا بتاؤں کس قدر تنہا ہوں میں

    خواب آور گولیوں سے اے شعورؔ

    خود کشی کی کوششیں کرتا ہوں میں

    مآخذ:

    • کتاب : Andokhta (Pg. 25)
    • Author : Anwar Shuoor
    • مطبع : Arts Council of Pakistan, Karachi (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY