اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی

مظفر رزمی

اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی

مظفر رزمی

MORE BY مظفر رزمی

    اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی

    ہم ڈوب کے سمجھے ہیں دریا تری گہرائی

    جاگ اے مرے ہمسایہ خوابوں کے تسلسل سے

    دیوار سے آنگن میں اب دھوپ اتر آئی

    چلتے ہوئے بادل کے سائے کے تعاقب میں

    یہ تشنہ لبی مجھ کو صحراؤں میں لے آئی

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    کیا سانحہ یاد آیا رزمیؔ کی تباہی کا

    کیوں آپ کی نازک سی آنکھوں میں نمی آئی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites