اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی

فیضان ہاشمی

اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی

فیضان ہاشمی

MORE BYفیضان ہاشمی

    اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی

    خبر ملی تھی مجھے خواب میں خزانے کی

    بہت سے دیدہ و نادیدہ خواب سامنے تھے

    اک ایسی سمت تھی کروٹ مرے سرہانے کی

    میں اس جگہ پہ جو اک دن پلٹ کے آیا تو

    کوئی بھی چیز نہیں تھی مرے زمانے کی

    ہر ایک کام سہولت سے ہوتا رہتا تھا

    کوئی خلش نہیں ہوتی تھی کر دکھانے کی

    میں اک خیال کا خیمہ لگائے بیٹھا تھا

    بہت جگہ تھی مرے پاس سر چھپانے کی

    وہ کیا خوشی تھی جو دل میں بحال رہتی تھی

    مگر وجہ نہیں بنتی تھی مسکرانے کی

    اک ایسے وقت میں وہ دونوں ہو گئے آباد

    جہاں کسی کو اجازت نہیں تھی آنے کی

    عجیب دشت تھا جو مجھ سے داد چاہتا تھا

    قریب پھیلے ہوئے دور کے زمانے کی

    تمام شہر میں پوری طرح خموشی تھی

    مجھے پڑی تھی کوئی گیت گنگنانے کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے