جام غم آج بھی چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے
جام غم آج بھی چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے
ساتھ رکھو مجھے بہلاؤ کہ کچھ رات کٹے
زخم دل میں نے سجائے ہیں جگر کے خوں سے
خانۂ دل میں چلے آؤ کہ کچھ رات کٹے
شمع کی طرح جلو دل میں اجالا ہو جائے
موم بن جاؤ پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے
رقص کرتا ہے فضاؤں میں ترنم کا شباب
گیت کچھ پیار بھرے گاؤ کہ کچھ رات کٹے
تم پلٹ آؤ تو شب کے بھی پلٹ جائیں گے دن
بخت خفتہ مرا چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے
ہجر کی رات تو کاٹے سے نہیں کٹتی ہے
ذکر جاناں ہی میں کھو جاؤ کہ کچھ رات کٹے
بند ہے غنچۂ دل شاخ تمنا پہ ادیبؔ
گل تبسم ہی کے برساؤ کہ کچھ رات کٹے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.