Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں

منشی شیو پرشاد وہبی

جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں

منشی شیو پرشاد وہبی

MORE BYمنشی شیو پرشاد وہبی

    جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیں

    تجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیں

    تیغ ابرو وہ دکھا کر یہی فرماتے ہیں

    اس کے آگے جو نہ ہو سینہ سپر کچھ بھی نہیں

    حالت نزع میں تم آئے ہو کیوں کر دیکھوں

    نور آنکھوں میں اب اے نور نظر کچھ بھی نہیں

    گو خطائیں نہیں ہیں کچھ مری پر سب کچھ ہیں

    ظلم و جور آپ کے سب کچھ ہیں مگر کچھ بھی نہیں

    تپ فرقت نے یہاں اپنا کیا کام تمام

    بے خبر آج تلک تجھ کو خبر کچھ بھی نہیں

    رات دن اس رخ و گیسو کا تصور ہے مجھے

    مشغلہ اس کے سوا شام و سحر کچھ بھی نہیں

    عارضی حسن پہ نازاں ہیں عبث یہ مہوش

    رات بھر نور کا عالم ہے سحر کچھ بھی نہیں

    منزل گور میں کیا دیکھیے ہم پر گزرے

    غم عصیاں کے سوا زاد سفر کچھ بھی نہیں

    کیوں یم اشک میں تو نے نہ ڈبویا مجھ کو

    آبرو اب تری او دیدۂ تر کچھ بھی نہیں

    ہے بجا ہیچ جو سمجھے ہیں اسے سب شاعر

    غور سے دیکھتے ہیں تو وہ کمر کچھ بھی نہیں

    عالم خواب میں کس طرح جہاں کو سمجھوں

    کیوں یہ سب کچھ نظر آتا ہے اگر کچھ بھی نہیں

    عاشقی کر کے نہ پھل پاؤ گے ہرگز وہبیؔ

    نخل الفت میں بجز داغ ثمر کچھ بھی نہیں

    مأخذ :
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے