جب سے اس شہر بے مکان میں ہوں

خورشید ربانی

جب سے اس شہر بے مکان میں ہوں

خورشید ربانی

MORE BY خورشید ربانی

    جب سے اس شہر بے مکان میں ہوں

    میں ترے اسم کی امان میں ہوں

    گنبد شعر میں جو گونجتی ہے

    میں اسی درد کی اذان میں ہوں

    میں نے تنہائیوں کو پا لیا ہے

    اس لیے خواب ہی کے دھیان میں ہوں

    تتلیاں رنگ چنتی رہتی ہیں

    اور میں خوشبوؤں کی کان میں ہوں

    وحشتیں عشق اور مجبوری

    کیا کسی خاص امتحان میں ہوں

    خواہشیں سایہ سایہ بکھری ہیں

    اور میں دھوپ کے مکان میں ہوں

    میں ہوں پیکان درد اے خورشیدؔ

    اور اک یاد کی کمان میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY