جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

افتخار عارف

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

    تم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں

    آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہ

    آگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں

    چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی میرے اندر

    ایک لہر سے کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں

    کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر

    اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

    جیسے سب لکھتے رہتے ہیں غزلیں نظمیں گیت

    ویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں افتخار عارف

    مآخذ:

    • Book : Mahr-e-Do neem (Pg. 13)
    • Author : iftikhaar aarif

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY