جیسے جیسے موت کی منزل قریب آنے لگی
جیسے جیسے موت کی منزل قریب آنے لگی
زندگی اپنے سفر پر خود ہی پچھتانے لگی
سوچتا ہوں جسم سے باہر نکل جاؤں ابھی
اب طبیعت گھر میں بیٹھے بیٹھے گھبرانے لگی
وہ اندھیرے کے مقابل دیر تک ٹھہرے گا کیا
جس دیے کی لو ہوا سے پہلے تھرانے لگی
عشق اکثر ایسی منزل پر مجھے لایا جہاں
عقل کو دل اور دل کو عقل سمجھانے لگی
کچھ محبت کچھ نزاکت کچھ شرارت کچھ حیا
جب بلایا پاس ہم نے دور وہ جانے لگی
زندگی کا حافظہ راہبؔ یقیناً تنگ ہے
بھول کر کل کے دکھوں کو آج مسکانے لگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.