جیسے سورج دکھلائی دے جنگل میں گم ہوتا سا
جیسے سورج دکھلائی دے جنگل میں گم ہوتا سا
ایک پرندہ اڑتا جائے بادل میں گم ہوتا سا
شعبدہ بازی تھی کرنوں کی یا نظروں کا دھوکا تھا
پیپل کے سائے کو دیکھا پیپل میں گم ہوتا سا
پھر سورج کا بچپن دیکھیں چڑیوں کی چہکار سنیں
تنہائی کے جن کو دیکھیں بوتل میں گم ہوتا سا
اندر اندر سناٹا ہے لیکن سارا سناٹا
باہر کی رونق میں ڈوبی ہلچل میں گم ہوتا سا
اک لمحے کی ایک ذرا سی بھول کا خمیازہ ٹھہرا
ایک صدی کا لمبا عرصہ اک پل میں گم ہوتا سا
اپنی ساری شوخ نگاری پلکوں میں گم ہوتی سی
اس کی آنکھوں کا سب جادو کاجل میں گم ہوتا سا
کھیل نہیں دنیا کو برتنا جب جب جتن کیا شادابؔ
ہم نے اپنے آپ کو پایا دلدل میں گم ہوتا سا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.