جلائے بیٹھا ہے ہر کوئی آگہی کا چراغ
جلائے بیٹھا ہے ہر کوئی آگہی کا چراغ
اجالا دیتا ہے لیکن کسی کسی کا چراغ
ہمارے پیچھے جلائے نہ کیوں وہ گھی کا چراغ
ہمارے سامنے جلتا نہیں کسی کا چراغ
جو تیل ڈال رہا ہے اسے نہیں معلوم
اسی کے گھر کو جلائے گا کل اسی کا چراغ
ہمارے بعد کوئی سرپھرا نہ آئے گا
ہماری راہ تکے گا تری گلی کا چراغ
کوئی بھروسہ نہیں کب یہ داغ دے جائے
ہوا کی زد پہ مسلسل ہے زندگی کا چراغ
گمان ہوتا ہے رہ رہ کے اس کے بجھنے کا
بھڑکتا رہتا ہے ہر وقت مفلسی کا چراغ
شکیلؔ ہم کو اندھیروں سے ڈر نہیں لگتا
خدا کے فضل سے روشن ہے آگہی کا چراغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.