جنگل جنگل ڈھونڈنے والی مجھ کو صدائیں کس کی تھیں
جنگل جنگل ڈھونڈنے والی مجھ کو صدائیں کس کی تھیں
منظر جو تعمیر ہوا تھا اس پہ گھٹائیں کس کی تھیں
برگ و شجر سب کانپ رہے تھے دیواریں چپ چاپ کھڑی تھیں
وہ تو سن سے گزر گیا تھا پھر یہ ہوائیں کس کی تھیں
اپنی اپنی قبا سنبھالے سارے مسافر گزر گئے
راہ میں لیکن ٹکڑا ٹکڑا کالی ردائیں کس کی تھیں
کبھی کبھی تو سب کچھ غائب کیسا میں اور کیسا وہ
تیرے اس آفاق نگر میں ایسی ادائیں کس کی تھیں
میرے سائے کے آگے کوئی سایہ لرز رہا تھا
نکلے تھے جب گھر سے اپنے ساتھ دعائیں کس کی تھیں
وہ جو بہت خوں ریز تھا ساون وہ تو ہم نے جی بھی لیا
شاخ شفق پر پتا پتا زرد قبائیں کس کی تھیں
آنکھ میں میری پتھر گم تھا پیاس میں میری صحرا گم
وہ تو مجھ کو چھوڑ چکا تھا پھر یہ جفائیں کس کی تھیں
ارزاں کس کا نور نہاں تھا ننھی ننھی کلیوں میں
پتا پتا اے گل خوبی تجھ پہ قبائیں کس کی تھیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.