جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا

شارق کیفی

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا

شارق کیفی

MORE BY شارق کیفی

    جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا

    دھوپ اتنی تھی کہ سایا کر لیا

    اب ہماری مشکلیں کچھ کم ہوئیں

    دشمنوں نے ایک چہرا کر لیا

    ہاتھ کیا آیا سجا کر محفلیں

    اور بھی خود کو اکیلا کر لیا

    ہارنے کا حوصلہ تو تھا نہیں

    جیت میں دشمن کی حصہ کر لیا

    منزلوں پر ہم ملیں یہ طے ہوا

    واپسی میں ساتھ پکا کر لیا

    ساری دنیا سے لڑے جس کے لیے

    ایک دن اس سے بھی جھگڑا کر لیا

    قرب کا اس کے اٹھا کر فائدہ

    ہجر کا ساماں اکٹھا کر لیا

    گفتگو سے حل تو کچھ نکلا نہیں

    رنجشوں کو اور تازہ کر لیا

    مول تھا ہر چیز کا بازار میں

    ہم نے تنہائی کا سودا کر لیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY