جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں

احمد ندیم قاسمی

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں

    سورج کو غروب سے بچاؤں

    بس میرا چلے جو گردشوں پر

    دن کو بھی نہ چاند کو بجھاؤں

    میں چھوڑ کے سیدھے راستوں کو

    بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں

    امکان پہ اس قدر یقیں ہے

    صحراؤں میں بیج ڈال آؤں

    میں شب کے مسافروں کی خاطر

    مشعل نہ ملے تو گھر جلاؤں

    اشعار ہیں میرے استعارے

    آؤ تمہیں آئنہ دکھاؤں

    یوں بٹ کے بکھر کے رہ گیا ہوں

    ہر شخص میں اپنا عکس پاؤں

    آواز جو دوں کسی کے در پر

    اندر سے بھی خود نکل کے آؤں

    اے چارہ گران عصر حاضر

    فولاد کا دل کہاں سے لاؤں

    ہر رات دعا کروں سحر کی

    ہر صبح نیا فریب کھاؤں

    ہر جبر پہ صبر کر رہا ہوں

    اس طرح کہیں اجڑ نہ جاؤں

    رونا بھی تو طرز گفتگو ہے

    آنکھیں جو رکیں تو لب ہلاؤں

    خود کو تو ندیمؔ آزمایا

    اب مر کے خدا کو آزماؤں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی

    RECITATIONS

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی

    جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں احمد ندیم قاسمی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY