جینے کا تو نے روز نیا مشغلہ دیا
اک غم ہٹا نہیں کہ ہمیں دوسرا دیا
یہ سوچئے کہ آپ سے دنیا کو کیا ملا
مت سوچئے کہ آپ کو دنیا نے کیا دیا
ہر ایک میں ہے پیار کی خوشبو بسی ہوئی
تو نے تو جو بھی زخم دیا کام کا دیا
مایوس زندگی کی تھکن لے کے سو گئے
اٹھے تو پھر خدا نے نیا حوصلہ دیا
مانوس اس قدر ہیں ترے غم سے ان دنوں
ہر اک خوشی کو سایۂ غم میں سلا دیا
آئینہ توڑ دے گا وہ چہرے کو دیکھ کر
معلوم تھا تو پھر اسے کیوں آئنہ دیا
اک شاعر و ادیب کی ہے تم کو جستجو
عاصمؔ کا پھر بتاؤ یہ کس نے پتہ دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.