جن کے ہاتھوں میں سر ہمارے ہیں
وہ ہمیں جان سے بھی پیارے ہیں
مت فلک پر ہمیں تلاش کرو
ہم تو ٹوٹے ہوئے ستارے ہیں
قیسؔ و فرہادؔ و ہیر کی صورت
عشق نے کتنے روپ دھارے ہیں
غور کیجے ذرا تو ہم اور آپ
ایک دریا کے دو کنارے ہیں
لاکھ کچھ بھی کہے ہمیں دنیا
ہم ہیں ان کے تو وہ ہمارے ہیں
بھوک افلاس رنج مایوسی
زندگی تیرے استعارے ہیں
تیری چاہت میں عشق کی بازی
جیت جانے کے بعد ہارے ہیں
تجھ کو کھونا تجھے خفا کرنا
یہ خسارے بڑے خسارے ہیں
کاش کوئی کبھی کہے ہم سے
جان ہم آج بھی تمہارے ہیں
جن میں خوشیاں نصیب ہوتی ہیں
ہم نے وہ دن کہاں گزارے ہیں
ہم نے دنیا میں آ کے دیکھ لیا
آپ دنیا میں سب سے پیارے ہیں
وہ مری جان کے ہوئے دشمن
جن کے صدقے کبھی اتارے ہیں
میں نے کاغذ پہ جو لکھے تھے ثبینؔ
کچھ مضامین ان میں نیارے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.