جس نے تیری یاد میں سجدے کئے تھے خاک پر
جس نے تیری یاد میں سجدے کئے تھے خاک پر
اس کے قدموں کے نشاں پائے گئے افلاک پر
واقعہ یہ کن فکاں سے بھی بہت پہلے کا ہے
اک بشر کا نور تھا قندیل میں افلاک پر
دوستوں کی محفلوں سے دور ہم ہوتے گئے
جیسے جیسے سلوٹیں پڑتی گئیں پوشاک پر
مخملی ہونٹوں پہ بوسوں کی نمی ٹھہری ہوئی
سانس الجھی زلف بکھری سلوٹیں پوشاک پر
پانیوں کی سازشوں نے جب بھنور ڈالے فرازؔ
تبصرہ کرتے رہے سب ڈوبتے تیراک پر
- کتاب : Kashkol (Pg. 140)
- Author : Tahir Faraz
- مطبع : Isteara Publications (2004)
- اشاعت : 2004
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.