جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں
جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں
وہ کہکشاں نہیں ہے ترے خد و خال میں
وہ رات میری نیند کا قضیہ اٹھا نہ دے
دن کاٹتا ہوں اب میں اسی احتمال میں
خوابیدگی کی تاب ابھاروں گا شعر میں
تیرا جمال اونگھ رہا ہے خیال میں
اب گیلی لکڑیوں کا بہانہ فضول ہے
دن بھر سے آگ گھوم رہی ہے جلال میں
یعنی یہ جسم اپنی کھنک سے کھڑا ہوا
یا اختیار آب سے اترا سفال میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.