Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جسے ہے زعم کہ اس نے ہوا کے پر باندھے

حفیظ مومن

جسے ہے زعم کہ اس نے ہوا کے پر باندھے

حفیظ مومن

MORE BYحفیظ مومن

    جسے ہے زعم کہ اس نے ہوا کے پر باندھے

    اگر ہے دم تو ہماری دعا کے پر باندھے

    اٹھائے ہاتھ عذاب و بلا کے پر باندھے

    یہ کس دعا نے کسی بد دعا کے پر باندھے

    ہوئی نہ آج بھی توبہ کے ٹوٹنے کی سبیل

    خدا نے آج بھی کالی گھٹا کے پر باندھے

    کوئی تو ہو جو اسے روک لے تباہی سے

    کوئی تو ہو جو دل مبتلا کے پر باندھے

    ہماری سوچ کی پرواز روکنا تھا محال

    ہمیں نے جان کی بازی لگا کے پر باندھے

    کئی دنوں سے کسی کا سلام ہے نہ پیام

    مرے عدو کی بازی لگا کے پر باندھے

    شفا کی آس لگائے مریض بیٹھا ہے

    دعا کو ہاتھ اٹھائے دوا کے پر باندھے

    حفیظؔ موت سے لقمان بچ سکے کب تک

    بڑے حکیم تھے کب تک قضا کے پر باندھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے