جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں

سلیم احمد

جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں

سلیم احمد

MORE BY سلیم احمد

    جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں

    اندھیری رات ہے کاغذ پہ میں تارے بناتا ہوں

    محلے والے میرے کار بے مصرف پہ ہنستے ہیں

    میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

    وہ لوری گائیں گی اور ان میں بچوں کو سلائیں گی

    میں ماؤں کے لیے پھولوں کے گہوارے بناتا ہوں

    فضائے نیلگوں میں حسرت پرواز تو دیکھو

    میں اڑنے کے لیے کاغذ کے طیارے بناتا ہوں

    مجھے رنگوں سے اپنے حیرتیں تخلیق کرنی ہیں

    کبھی تتلی کبھی جگنو کبھی تارے بناتا ہوں

    زمیں یخ بستہ ہو جاتی ہے جب جاڑوں کی راتوں میں

    میں اپنے دل کو سلگاتا ہوں انگارے بناتا ہوں

    ترا دست حنائی دیکھ کر مجھ کو خیال آیا

    میں اپنے خون سے لفظوں کے گل پارے بناتا ہوں

    مجھے اک کام آتا ہے یہ لفظوں کے بنانے کا

    کبھی میٹھے بناتا ہوں کبھی کھارے بناتا ہوں

    بلندی کی طلب ہے اور اندر انتشار اتنا

    سو اپنے شہر کی سڑکوں پہ فوارے بناتا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY