جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی

عارف شفیق

جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی

عارف شفیق

MORE BY عارف شفیق

    جو اپنی خواہشوں میں تو نے کچھ کمی کر لی

    تو پھر یہ جان کہ تو نے پیمبری کر لی

    تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر

    ترے بغیر بسر میں نے زندگی کر لی

    پہنچ گیا ہوں میں منزل پہ گردش دوراں

    ٹھہر بھی جا کہ بہت تو نے رہبری کر لی

    جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی

    مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی

    جو سچی بات تھی وہ میں نے برملا کہہ دی

    یوں اپنے دوستوں سے میں نے دشمنی کر لی

    مشینی عہد میں احساس زندگی بن کر

    دکھی دلوں کے لیے میں نے شاعری کر لی

    غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ

    امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 05.09.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY