Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو دہائی دے رہا ہے کوئی سودائی نہ ہو

امین راحت چغتائی

جو دہائی دے رہا ہے کوئی سودائی نہ ہو

امین راحت چغتائی

جو دہائی دے رہا ہے کوئی سودائی نہ ہو

اپنے ہی گھر میں کسی نے آگ دہکائی نہ ہو

راستے میں اس سے پہلے کب تھا اتنا اژدحام

جو تماشہ بن رہا ہے وہ تماشائی نہ ہو

جو ملا نظریں چرا کر چل دیا اب کیا کہیں

شہر میں رہ کر کبھی اتنی شناسائی نہ ہو

اپنی ہی آواز پر چونکے ہیں ہم تو بار بار

اے رفیقو بزم میں اتنی بھی تنہائی نہ ہو

میں شعاع مہر کا مارا سہی لیکن یہاں

کون ہے یارو جو اس سورج کا شیدائی نہ ہو

گنگ بھی ہیں دیکھ کر بدلے ہوئے منظر یہاں

اور ایسا بھی نہیں ہم میں کہ گویائی نہ ہو

میں تو اپنی ذات کا اک ریزۂ گم گشتہ ہوں

وہ مجھے ڈھونڈے گا کیا جو میرا شیدائی نہ ہو

مأخذ :
  • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 145)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے