جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں

علی جواد زیدی

جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں

علی جواد زیدی

MORE BY علی جواد زیدی

    جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں

    مگر جن کو سمجھنا چاہیئے تھا کم سمجھتے ہیں

    ذرا میرے جنوں کی کاوش تعمیر تو دیکھیں

    جو بزم زندگی کو درہم و برہم سمجھتے ہیں

    ان آنکھوں میں نہیں نشتر خود اپنے دل میں پنہاں ہے

    اب اتنی بات تو کچھ ہم بھی اے ہمدم سمجھتے ہیں

    یہ ان کی مہربانی ہے یہ ان کی عزت افزائی

    کہ میرے زخم کو وہ لائق مرہم سمجھتے ہیں

    ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے

    جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

    جھجکتے سے قدم بہکی سی نظریں رکتی سی باتیں

    یہ انداز تجاہل وہ ہے جس کو ہم سمجھتے ہیں

    سلوک دوست بھی ہے اک اشارہ تیزگامی کا

    ہم اہل کارواں آنچل کو بھی پرچم سمجھتے ہیں

    ہٹو اہل خرد اہل جنوں کو جانے دو آگے

    وہی کچھ راہ ہستی کے یہ پیچ و خم سمجھتے ہیں

    پلک سے اس طرح ٹپکا کہ گویا اک کلی چٹکی

    ہم اہل درد اشک غم کو بھی شبنم سمجھتے ہیں

    خلوص ظاہری روزانہ اک محفل سجاتا ہے

    سمجھتے وہ بھی ہیں لیکن ابھی کم کم سمجھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY