جو اوجھل ہے نگاہوں سے وہ منظر دیکھ سکتی ہوں
جو اوجھل ہے نگاہوں سے وہ منظر دیکھ سکتی ہوں
میں اب پرچھائیوں میں تیرا پیکر دیکھ سکتی ہوں
کسی کے ہجر نے بخشی ہے ایسی روشنی مجھ کو
میں تنہائی ترے چہرے کو چھو کر دیکھ سکتی ہوں
جو اک خاموش صحرا کی طرح معلوم ہوتی ہیں
میں ان آنکھوں میں پوشیدہ سمندر دیکھ سکتی ہوں
جدا ہوتے ہوئے وہ اپنی آنکھیں دے گیا مجھ کو
کہ اب میں خود کو آئینہ ہٹا کر دیکھ سکتی ہوں
بھرم اپنے سفر کا ہم سفر کوئی نہ رکھ پایا
ترے ہمراہ بھی کچھ دور چل کر دیکھ سکتی ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.