میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

عباس تابش

میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

    ہنس تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں

    اس لیے اب میں کسی کو نہیں جانے دیتا

    جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں

    میری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبو

    رفتگاں خواب میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں

    شادیٔ مرگ کا ماحول بنا رہتا ہے

    آپ آتے ہیں رلاتے ہیں چلے جاتے ہیں

    کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے

    ہم تو بس یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں

    آپ کو کون تماشائی سمجھتا ہے یہاں

    آپ تو آگ لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں

    ہاتھ پتھر کو بڑھاؤں تو سگان دنیا

    حیرتی بن کے دکھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عباس تابش

    عباس تابش

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 627)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY