کافر تھا میں خدا کا نہ منکر دعا کا تھا

اکبر حمیدی

کافر تھا میں خدا کا نہ منکر دعا کا تھا

اکبر حمیدی

MORE BYاکبر حمیدی

    کافر تھا میں خدا کا نہ منکر دعا کا تھا

    لیکن یہاں سوال شکست انا کا تھا

    کچھ عشق و عاشقی پہ نہیں میرا اعتقاد

    میں جس کو چاہتا تھا حسیں انتہا کا تھا

    جل کر گرا ہوں سوکھے شجر سے اڑا نہیں

    میں نے وہی کیا جو تقاضا وفا کا تھا

    تاریک رات موسم برسات جان زار

    گرداب پیچھے سامنے طوفاں ہوا کا تھا

    اک عمر بعد بھی نہ شفا ہو سکے تو کیا

    رگ رگ میں زہر صدیوں کی آب و ہوا کا تھا

    گو راہزن کا وار بھی کچھ کم نہ تھا مگر

    جو وار کارگر ہوا وہ رہنما کا تھا

    اکبرؔ جہاں میں کار کشائی بتوں کی تھی

    اچھا رہا جو ماننے والا خدا کا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Auraaq (Pg. 194)
    • Author : Vazeer Agha
    • مطبع : Office auraq. chouck Urdu Bazar, Lahore (Nov. Dec. 1974)
    • اشاعت : Nov. Dec. 1974

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY