کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

قمر جلالوی

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

قمر جلالوی

MORE BYقمر جلالوی

    کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

    غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

    اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو

    جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

    جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے

    دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

    بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے

    وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں

    پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو

    سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

    کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا

    تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں

    تاروں کی بہاروں میں بھی قمرؔ تم افسردہ سے رہتے ہو

    پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حبیب ولی محمد

    حبیب ولی محمد

    حبیب ولی محمد

    حبیب ولی محمد

    RECITATIONS

    قمر جلالوی

    قمر جلالوی

    قمر جلالوی

    کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں قمر جلالوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY