Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کبھی میرا کبھی تیرا رہا ہے

نواب سید حکیم احمد نقوی بدایونی

کبھی میرا کبھی تیرا رہا ہے

نواب سید حکیم احمد نقوی بدایونی

کبھی میرا کبھی تیرا رہا ہے

زمانہ ایک سا کس کا رہا ہے

زبان و دل ہوئے ہیں جب سے پیدا

زبان پر دل کا افسانہ رہا ہے

اسے کیوں کر سمجھ لیں دل کی حرکت

تڑپتے ہیں کوئی تڑپا رہا ہے

رہے اتنا خیال اے چشم ساقی

وہی پیتا ہے جو پیتا رہا ہے

خدا جانے بہار آئے تو کیا ہو

ابھی سے دل مرا گھبرا رہا ہے

زمانے میں ہمیں اک نا سمجھ ہیں

جسے دیکھو ہمیں سمجھا رہا ہے

لبوں تک آ چکا ہے دم ہمارا

ابھی تک وہ مسیحا آ رہا ہے

ہم اپنے آپ ہی کو دیکھتے ہیں

رہا ہوگا خدا جس کا رہا ہے

مرا گھر دیکھ کر کہنے لگے وہ

یہاں تو کوئی دیوانہ رہا ہے

مے نو سے ہو وہ کیا لطف اندوز

شراب کہنہ جو پیتا رہا ہے

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے