کہیں پہ رزق کہیں پر ہے گھر پرندوں کا
کہیں پہ رزق کہیں پر ہے گھر پرندوں کا
ہزاروں میل ہے لمبا سفر پرندوں کا
کہیں چٹانوں پہ ڈالی پہ اور چھتوں میں بھی
کہاں کہاں نہیں رہتا ہے گھر پرندوں کا
سہانی صبح نہ ہوتی نہ ہوتی شام حسیں
وجود دنیا میں ہوتا نہ گر پرندوں کا
یہ جوڑ لیتے ہیں تنکوں سے کس طرح تنکے
سمجھ سکا نہ کوئی بھی ہنر پرندوں کا
لکھا ہے جتنا مقدر میں رزق کھاتے ہیں
نہ جانے کیوں ہے کسانوں کو ڈر پرندوں کا
شکاری تاک میں بیٹھے ہیں جال پھیلائے
ادھر خدا نہ کرے ہو گزر پرندوں کا
سکون و امن ہو قائم جہاں میں پھر ساحلؔ
اے کاش لے لے اب انساں اثر پرندوں کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.