کل تک کتنے ہنگامے تھے اب کتنی خاموشی ہے

جمیل ملک

کل تک کتنے ہنگامے تھے اب کتنی خاموشی ہے

جمیل ملک

MORE BYجمیل ملک

    کل تک کتنے ہنگامے تھے اب کتنی خاموشی ہے

    پہلے دنیا تھی گھر میں اب دنیا سے رو پوشی ہے

    پل بھر جاگے گہری نیند کا جھونکا آیا ڈوب گئے

    کوئی غفلت سی غفلت مدہوشی سی مدہوشی ہے

    جتنا پیار بڑھایا ہم سے اتنا درد دیا دل کو

    جتنے دور ہوئے ہو ہم سے اتنی ہم آغوشی ہے

    سب کو پھول اور کلیاں بانٹو ہم کو دو سوکھے پتے

    یہ کیسے تحفے لائے ہو یہ کیا برگ فروشی ہے

    رنگ حقیقت کیا ابھرے گا خواب ہی دیکھتے رہنے سے

    جس کو تم کوشش کہتے ہو وہ تو لذت-کوشی ہے

    ہوش میں سب کچھ دیکھ کے بھی چپ رہنے کی مجبوری تھی

    کتنی معنی خیز جمیلؔ ہماری یہ بے حوشی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY